تالیف قلب

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - دلوں کو مائل کرنے اور اپنانے کا عمل، دل موہ لینے کا کام۔ "آپ نے انصار کو سمجھایا کہ مکہ کے لوگ جدید الاسلام ہیں میں نے ان کو جو کچھ دیا حق کی بنا پر نہیں بلکہ تالیف قلب کے لیے دیا۔"      ( ١٩١١ء، سیرۃ النبی، ٤٨٠:١ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'تالیف' کے ساتھ کسرہ اضافت لگانے کے بعد عربی زبان سے ہی اسم 'قلب' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٥١ء میں "ترجمہ عجائب القصص" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دلوں کو مائل کرنے اور اپنانے کا عمل، دل موہ لینے کا کام۔ "آپ نے انصار کو سمجھایا کہ مکہ کے لوگ جدید الاسلام ہیں میں نے ان کو جو کچھ دیا حق کی بنا پر نہیں بلکہ تالیف قلب کے لیے دیا۔"      ( ١٩١١ء، سیرۃ النبی، ٤٨٠:١ )

جنس: مؤنث